ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قانونی داؤ پیچ میں پھنس سکتاہے’لو جہاد‘ کو روکنے کاتبدیلی مذہب قانون، ہائی کورٹ نے یوگی حکومت سے مانگا جواب

قانونی داؤ پیچ میں پھنس سکتاہے’لو جہاد‘ کو روکنے کاتبدیلی مذہب قانون، ہائی کورٹ نے یوگی حکومت سے مانگا جواب

Sat, 19 Dec 2020 11:41:15    S.O. News Service

پریاگ راج،19؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے مبینہ لوجہاد پر کنٹرول کیلئے یوپی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تبدیلی مذہب آرڈی نینس پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے اس ضمن میں ریاستی حکومت و دیگر کو نوٹس جاری کیا ہے -

مبینہ لوجہاد پر کنٹرول کیلئے یوپی حکومت نے نومبر میں انسداد غیر قانونی تبدیلی مذہب آرڈی نینس2020کو منظوری دی تھی-جسے الہ آباد ہائی کورٹ میں متعدد پی آئی ایل فائل کر کے چیلنج کیا گیا تھا -آج کورٹ نے تمام کی ایک ساتھ سماعت کی اور آرڈی نینس پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے ریاستی حکومت و دیگر کو اس ضمن میں نوٹس جاری کیا-

چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس پیوش اگروال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس ضمن میں یوپی حکومت کو4جنوری تک جوابی حلف نامہ فائل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کیلئے7جنوری2021کی تاریخ طے کی ہے -اور عرضی گذاروں کو6جنوری تک جواب الجواب داخل کرنے کی آزادی دی گئی ہے -عرضی گذاروں کا اس آرڈی نینس پر سب سے بنیادی اور پہلا اعتراض یہی تھا کہ یہ آرڈی نینس ایک شہری کے انتخاب و اختیار اور تبدیلی مذہب کی آزادی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے -

عرضی گذاروں نے اپنی عرضی میں لکھا ہے کہ یہ آرڈی نینس دستور کے آرٹیکل14(حق مساوات)، آرٹیکل 15(مذاہب کی بنیاد پر تفریق میں مانع)آرٹیکل21(جینے کا حق)،اور آرٹیکل25(ضمیر کی آزادی وغیرہ) میں حاصل شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور سلامت انصاری معاملے میں ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے مستند فیصلے سے متضاد ہے -ساتھ ہی ہائی کورٹ نے اپنے ایک دیگر فیصلے میں شریک حیات کی پسند کو بنیادی حق قرار دیا ہے -

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرڈی نینس سازی کیلئے دستور کے آرٹیکل213کے استعمال کیلئے کوئی ٹھوس بنیاد دکھا ئی نہیں دیتی علاوہ ازیں ریاست اس قانون کے نفاذ کیلئے ایسے کسی ضروری یا غیر متوقع حالات کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے جو اس قانون کی ضرورت کو پیش کرتے ہوں -

عرضی گذاروں میں وکیل سوربھ کمار،شاشوت آنند اور ویشیش راج ونشی اور اجیت سنگھ یادو شامل ہیں - سوربھ کی طرف سے وکیل دیویش سکسینہ اور بقیہ کی جانب سے وکیل رمیش کمار پیش ہوئے جبکہ ریاست کا موقف اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے رکھا-


Share: